بنگلورو:30/ جون (ایس او نیوز) کافی عرصہ سے زیر التوا میکے ڈا ٹ آبی منصوبہ کو منظوری دینے کیلئے ریاستی حکومت نے مرکزی آبی کمیشن کو مکتوب روانہ کیاہے۔ 5912کروڑ روپیوں کی لاگت پر تعمیر ہونے والے منصوبے کے ذریعہ آس پاس کے علاقوں کو صرف پینے کاپانی مہیا کرایا جائے گا اور یہاں پر پانی جمع کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ کاویری آبپاشی کارپوریشن کے ذریعہ حال ہی میں یہ پراجکٹ مرکزی آبی کمیشن کو پیش کیا گیا۔ اس پراجکٹ کے ذریعہ بنگلور سمیت چار مختلف اضلاع کو پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گااور 4ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک توسیعی پراجکٹ رپورٹ جو کاویری آبپاشی کارپوریشن نے تیار کی ہے وہ بھی مرکزی آبی کمیشن کو پیش کردی گئی ہے۔ بنگلور سے سو کلومیٹر اور ارکاوتی کاویری ندیوں کے سنگم سے چار کلومیٹر دو ر موجود میکے ڈاٹ پر کاویری کے پانی کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت ذخیرہ اندوزی کرنا چاہتی ہے۔ ریاستی وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل کی خصوصی توجہ کے نتیجہ میں مرکزی آبی کمیشن کے رہنما خطوط کی روشنی میں توسیعی پراجکٹ رپورٹ تیار کرکے اسے منظوری کیلئے بھیج دیاگیا ہے۔مرکز سے منظوری ملتے ہی اس پراجکٹ پر کام شروع کردیا جائے گا۔ اس آبی ذخیرہ کی تعمیر سے دریائے کاویری کے ذریعہ تملناڈو کو جتنا پانی فراہم کیا جانا ہے اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ساتھ ہی ضائع ہونے والے پانی کا استعمال کرکے بجلی کی پیداوار کی جائے گی۔ بنگلور اور آس پاس کے علاقوں کو 16.10 ٹی ایم سی فیٹ پانی میکے ڈاٹ منصوبے کے تحت پینے کیلئے مہیا کرایا جائے گا۔ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کے قطعی فیصلے کے مطابق 433 ٹی ایم سی فیٹ پانی تملناڈو کو 270 ٹی ایم سی فیٹ کرناٹک کو 30 ٹی ایم سی فیٹ کیرلا کو، اور سات ٹی ایم سی فیٹ پانڈیچری کو مہیا کرایا گیا ہے۔کرناٹک کے حصہ میں آنے والے 270 ٹی ایم سی فیٹ پانی میں 17.64 ٹی ایم سی فیٹ افزود پانی بھی شامل ہے، اسی لئے اس پانی کا استعمال میکے ڈاٹ پراجکٹ کیلئے کیا جائے گا۔ ان تمام تفصیلات کی روشنی میں ریاستی حکومت کو توقع ہے کہ جلد ہی اس پراجکٹ کیلئے منظوری مل جائے گی۔